گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے

 

گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے

اس سے بڑے کرم کا تصور حرام ہے

 

جس دل کے آئینے میں محمدؐ کا نام ہے

دوزخ کی آگ اُس پر یقیناً حرام ہے

 

میری حیات ایسے نبیؐ کی غلام ہے

جو انبیاء کا عرش بریں پر امام ہے

 

ہے نور کے وجود میں وحدانیت کا راز

گفتار مصطفیٰؐ بھی خدا کا کلام ہے

 

گونجے جہاں میں نعرۂ تکبیر مومنو

میلاد مصطفیٰؐ کا یہی اہتمام ہے

 

خواہش ہے دیکھنے کی محمدؐ کے نام پر

قدرت خدا !جو تیری مدینے میں عام ہے

 

رکھ دو جبیں پہ ہاتھ کہو، شان انبیاء

ہم عاجزوں کے پیار کا، تجھ کو سلام ہے

 

تو فہم و فکر و عقل کی حد سے ہے ماورا

اے شاہ انبیاء !تجھے میرا سلام ہے

 

آؤ پڑھیں درود کہ گلؔ جانتے ہیں ہم

میلاد مصطفیٰؐ بھی وفا کا کلام ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب مدینے کی بات کرتا ہوں
جبیں میری ہو اُنؐ کا سنگِ در ہو
انداز زندگانی کے سارے بدل کے آ
خدا کے فضل سے ہوتا ہمیں وصالِ رسول
جب شعر ہُوا اسمِ محمد سے مُرصّع
صد شُکر کہ ہم نعت سے منسوب ہُوئے ہیں
منشائے رسالت کا ہُوا جیسے اشارہ
شغل سب سے بھلا درود شریف
ہر دم مری زبان رہے تر درود سے
قلبِ مضطر کے لیے ایک دَوا کافی

اشتہارات