گل میں خوشبو تری، سورج میں اجالا تیرا

گل میں خوشبو تری، سورج میں اجالا تیرا

پائے ہر شے میں تجھے ڈھونڈنے والا تیرا

 

کس کی تعمیر و ترقی میں ترا ہات نہیں

لغزشِ پا کا مداوا تو کوئی بات نہیں

روک لے گرتی فصیلوں کو سنبھالا تیرا

 

بے سفینہ بھی وہ لہروں پہ ٹھہر سکتا ہے

وہ ہر اِک راہِ حوادث سے گزر سکتا ہے

آسرا ہو جسے اللہ تعالٰی تیرا

 

جو بہرحال نہ شاکر ہوں وہ کب ہیں تیرے

آزمائش کے طریقے بھی عجب ہیں تیرے

اور اندازِ کرم بھی ہے نرالا تیرا

 

نہ تردد نہ تصنع نہ تکلف کوئی

جب کراتا ہے مُظؔفّر کا تعارف تیرا

شکر ہے پہلے وہ دیتا ہے حوالہ تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بزمِ اہلِ عشق رقصاں از نگاہِ مست تو
ضیائے کون و مکان لا الٰہ الا اللہ
حاضر ہیں ترے دربار میں ہم، اللہ کرم، اللہ کرم
خُدا ارفع و اعلیٰ محترم ہے
یہی فرمانِ محبوبِ خداؐ ہے
خدائے پاک نے ایمان بخشا
خدائے مہرباں سب کا خدا ہے
خدا سے ملنا چا ہو، بات یہ دل میں بٹھا لو
خدائے مہرباں کو جب پُکارا
خدا تیرے دل و جاں میں بسا ہے