اردوئے معلیٰ

Search

گل و لالہ کی تحریروں میں بس فکرِ رسا تُو ہے

یہی دل میرا کہتا ہے کُجا میں ہوں کُجا تُو ہے

 

کوئی مشکل جو آ جائے پریشاں دل نہیں ہوتا

کہ ہر مشکل کے رستے میں مرا مشکل کشا تو ہے

 

جہاں تک یہ نظر جائے وہاں تک نور ہے تیرا

ہر اک تصویر کے جلوے میں شامل مقتضا تو ہے

 

ہدایت یہ مجھے قرآن کی سطروں سے حاصل ہے

محمد کی قسم مجھ کو ، فنا میں ہوں بقا تو ہے

 

گلابوں کے تبسم اور تتلی کی نزاکت میں

نظر خوش رنگ جو آئے خدایا وہ ادا تو ہے

 

جہاں پر حبس ہوتا ہے جہاں ہوتے ہیں تشنہ لب

وہاں پر جو برستی ہے وہ میرے رب گھٹا تو ہے

 

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی ظاہر، تو ہی باطن

مرا ہونا ترا ہونا ، میں کب ہوں ؟ یا خدا تو ہے

 

مجھے عرفان کی دولت ملی تیرے ہی کلمے سے

ترے کلمے میں” لا ” میں ، اے مرے مالک الہ تو ہے

 

گل و لالہ میں چنبیلی میں رنگ و نور ہے قائم

ہر اک جلوے کی رعنائی میں اک جلوہ نما تو ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ