گماں یہی ہے کہ ہم لوگ زندہ رہ جائیں

گماں یہی ہے کہ ہم لوگ زندہ رہ جائیں

ہمارے حصے کی قبروں کو بھر دیا گیا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اور ہوتے ہیں جو محفل میں خاموش آتے ہیں
تری رعایا بڑی دیر سے عذاب میں ہے
ہوس کی آندھیوں میں یہ عذاب اترا ہے
پردیس میں رہ کے کوئی کیا پاؤں جمائے
دل ملاتے بھی نہیں دامن چھڑاتے بھی نہیں
کبھی ملے تو بتاؤں گی اپنی آپ بیتی
دل نے مانی نہیں مری ورنہ
اپنے ہی دِل کو مار لِیا مار مار کے
فراق یار کی بارش ملال کا موسم
شباب ہو کہ نہ ہو حسن یار باقی ہے یہاں