اردوئے معلیٰ

چلے تھے گھر سے جب تو صرف عشق کی تلاش تھی
وہ عشق جس سے حرفِ حق کی گتھیاں سلجھ سکیں
وہ عشق جس سے ذات کا ہرایک رنگ کھل اٹھے
وہ عشق جس کے لمس سے بدن بکھر کے نور ہو
وہ عشق جس کے لحن میں ابھر کے حرف شعر ہو
وہ عشق جس کی روشنی بڑھے تو رات ڈھل سکے
وہ عشق جس کی پتیاں ابد تلک ہری رہیں
وہ عشق جس کی ٹہنیاں بقا کے بوجھ سے جھکیں
وہ عشق جو ہو انجمن جہاں کہیں قدم رکیں
چلے تھے گھر سے جب تو صرف عشق کی تلاش تھی
مگر عجب مذاق ہے
کہ راہِ عشق میں ہزار دام تھے فنا کے بھی
کہیں پہ ہجر و وصل کے دقیق مسئلے ہیے
انا کے ہاتھ نے بلا کے راہ سے ہٹا دیا
کہیں یقین کی کمی نے راستہ بھلا دیا
کہیں حصول کی طلب نے آستاں گنوا دیا
کہیں پہ بحث چھڑ گئی گناہ اور ثواب کی
کہ جو کیا ہے آج تک ،
غلط ہے یا کہ ٹھیک ہے
غلط ہے پھر تو رائیگاں
جو ٹھیک ہے تو کس لیے صلہ ابھی ملا نہیں
کہیں بدن کے جال تھے
کہ جن دام میں پھنسے تو عفتِ وفا گئی
کہ جن کی راہ پر چلے تو منزلِ بقا گئی
کہ جن کے نام پر بِکے تو حرمتِ دعا گئی
کھڑے ہیں جس جگہ وہاں سوال ہی سوال ہیں
چلے تھے گھر سے جب تو صرف عشق کی تلاش تھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات