گناہ قلب کو جب تار تار کرتے ہیں

گناہ قلب کو جب تار تار کرتے ہیں

درود دل کو رفو بار بار کرتے ہیں

 

بجز حضورؐ شفاعت کا اذن کس کو ہے ؟

خدا کے حکم سے بس تاج دار کرتے ہیں

 

اے کاش خاکِ مدینہ میں دفن ہو جائیں

حضورؐ دل سے دعا خاکسار کرتے ہیں

 

سجائے رکھتے ہیں عشاق خواب گھر اپنے

برائے دید وہ شب انتظار کرتے ہیں

 

بروزِ پیر ہوئی تھی کریم کی آمد

نذر درود کی ہر سوموار کرتے ہیں

 

قرار دیجیے تعبیرِ حاضری دے کر

حضورؐ خواب مجھے بے قرار کرتے ہیں

 

پرندے صبح میں ذکرِ خدا کے بعد عطا

درود پڑھ کے چمن مشک بار کرتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے
پیشوائے انبیاء ہے آمنہ کی گود میں
مظہرِ قدرت باری صورت
نظر میں جلووں کی جھلملاہٹ پکارتی ہے
جو ضم ہو عشقِ نبی میں ،ہے بیکراں دریا
گویا بڑی عطا ہے طلبگار کےلئے
کلی کلی کی زباں پر یہ نام کس کا ہے؟
گھٹا فیضان کی امڈی ہوئی ہے
کتابِ مدحت میں شاہِ خوباں کی چاہتوں کے گلاب لکھ دوں
دل نشیں ہیں ترے خال و خد یانبی

اشتہارات