اردوئے معلیٰ

Search

گنبدِ سبز نے آنکھوں کو طراوت بخشی

ذکرِ سرکار نے لہجے کو حلاوت بخشی

 

میں کہ عاصی ترِی دہلیز کے قابل تو نہ تھا

تیری شفقت ہے کہ مجھ کو بھی اجازت بخشی

 

شانِ بوبکرؓ و عمرؓ کے تو میں صدقے قرباں

اپنے پہلو میں جنہیں آپ نے تربت بخشی

 

ارضِ طیبہ پہ مؤاخات کا منظر دیکھو

اپنے اصحاب کو آقا نے اخوّت بخشی

 

سیدی کہہ کے بلا یا ہے عمرؓ نے ان کو

ایسی آقا نے غلاموں کو سیادت بخشی

 

ہے جلیل اپنا وظیفہ تو شب و روز درود

خوش مقدر ہوں کہ مولا نے یہ عادت بخشی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ