اردوئے معلیٰ

گنبدِ سبز کے انوار میں بیٹھے رہتے

کاش ہم آپ کے دربار میں بیٹھے رہتے

 

آپ تشریف نہ لاتے جو وہاں سے آقا

ساتھ صدیقؓ اسی غار میں بیٹھے رہتے

 

شکر ہے آپ نے بلوایا ہمیں اپنی طرف

ورنہ ہم محفلِ اغیار میں بیٹھے رہتے

 

وقت کٹنے کا بھی احساس نہ ہوتا ہم کو

محو ہم آپ کے دیدار میں بیٹھے رہتے

 

لَوٹ آئے ہیں مدینے سے مگر سوچتے ہیں

رحمتوں والے چمن زار میں بیٹھے رہتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات