اردوئے معلیٰ

Search

گوریاں ہوتی ہیں جیسے ساجنوں کی قید میں

میری آنکھیں ہیں مسلسل ساونوں کی قید میں

 

کس طرح پھر درمیاں کے فاصلوں کو دوش دیں

جب رہے ہم ہی انا کے معبدوں کی قید میں

 

منتظر ہیں کتنی ہی افلاس ماری لڑکیاں

شاہزادوں کی ، گھروں کی چوکھٹوں کی قید میں

 

اِک پری کا خواب توڑا تھا اُسی پاداش میں

مرتضیٰ میں آج تک ہوں رتجگوں کی قید میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ