گوریاں ہوتی ہیں جیسے ساجنوں کی قید میں

گوریاں ہوتی ہیں جیسے ساجنوں کی قید میں

میری آنکھیں ہیں مسلسل ساونوں کی قید میں

 

کس طرح پھر درمیاں کے فاصلوں کو دوش دیں

جب رہے ہم ہی انا کے معبدوں کی قید میں

 

منتظر ہیں کتنی ہی افلاس ماری لڑکیاں

شاہزادوں کی ، گھروں کی چوکھٹوں کی قید میں

 

اِک پری کا خواب توڑا تھا اُسی پاداش میں

مرتضیٰ میں آج تک ہوں رتجگوں کی قید میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ