گوریاں ہوتی ہیں جیسے ساجنوں کی قید میں

گوریاں ہوتی ہیں جیسے ساجنوں کی قید میں

میری آنکھیں ہیں مسلسل ساونوں کی قید میں

 

کس طرح پھر درمیاں کے فاصلوں کو دوش دیں

جب رہے ہم ہی انا کے معبدوں کی قید میں

 

منتظر ہیں کتنی ہی افلاس ماری لڑکیاں

شاہزادوں کی ، گھروں کی چوکھٹوں کی قید میں

 

اِک پری کا خواب توڑا تھا اُسی پاداش میں

مرتضیٰ میں آج تک ہوں رتجگوں کی قید میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں 
معلُوم ھے جناب کا مطلب کچھ اَور ھے
یار کی دستک پہ بھی تُو نے یہ پُوچھا: کون ھے ؟
حسین ہونٹ اگر ہیں تو گال اپنی جگہ
جھوٹا ہوں دھوکے باز ہوں اچھا نہیں رہا
ملتی نہیں منزل تو مقدر کی عطا ہے
خلعتِ خاک پہ ٹانکا نہ ستارہ کوئی
اب بھی ہے یاد مجھ کو پہلی لگن کا جادُو
ممکن ہوا نہ لوٹ کے آنا کبھی مجھے
مدفون مقابر پہ تحاریر کی صورت

اشتہارات