اردوئے معلیٰ

گویا بڑی عطا ہے طلبگار کےلئے

گویا بڑی عطا ہے طلبگار کے لئے

یہ قصدِ نعت گوئی گنہگار کے لئے

 

پڑھتی ہے اس پہ سانس کی مکڑی درودِ پاک

یہ غارِ دل ہے جلوہءِ سرکار کے لئے

 

مقصود کُن بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں

دونوں جہاں ہیں ھستیء سرکار کے لئے

 

بزمِ نبی میں مدح سَرا ہوں سو لفظ لفظ

لب پر بصَد نیاز ہے اظہار کے لئے

 

سَر کو جھکا کے سایہءِ گنبد میں بیٹھنا

اک یہ دوا ہے عشق کے بیمار کے لئے

 

اک جاوداں بہار ہے ہستی حضور کی

اس ساری کائنات کے گلزار کے لئے

 

ہے اتّباعِ سیرتِ احمد میں ہی نجات

ورنہ ہے ناؤ آفتِ منجدھار کے لئے

 

ملتی ہے دیر تک اسے دربار میں جگہ

اعزاز ہے یہ سایہء دیوار کے لئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ