اردوئے معلیٰ

Search

گو اپنی قید میں پیارے ہم اتنے سال رہے

تیرے خیال سے لیکن نہ بے خیال رہے

 

وہ آںکھ ہی نہ ملی جو کہ دیکھ بھی سکتی

ہر اک جواب کے پیچھے کئی سوال رہے

 

میں تجھ کو دیکھوں تو پھر لمبی تان کے سو جاؤں

کہ حشر تک میرا ساتھی ترا جمال رہے

 

جو سہہ نہ سکتا ہو اپنے زوال کا صدمہ

یہ لازمی ہے کہ وہ شخص بے کمال رہے

 

غمِ فراق کے نرغے میں ہے امیدِ وصال

ہر اک لڑائی کی حد ہے احتمال رہے

 

ہوں میرے بیٹے میں اوصاف اُس کے دادا کے

کہ میرے ماضی سے پیوست میرا حال رہے

 

کہ جاٹ لوگ کبھی خوں بہا نہیں لیتے

تو قتل کر مجھے اے جاں! مگر خیال رہے

 

وہ ایک دن بھی طلوع ہو خوشی کا ، جنگل میں

وہ ایک دن کہ شکاری رہے ، نہ جال رہے

 

عجیب ہے کہ جو افضلؔ بھی ہیں اور احسنؔ بھی

وہ لوگ گردشِ دوراں سے پائمال رہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ