گو اپنی قید میں پیارے ہم اتنے سال رہے

گو اپنی قید میں پیارے ہم اتنے سال رہے

تیرے خیال سے لیکن نہ بے خیال رہے

 

وہ آںکھ ہی نہ ملی جو کہ دیکھ بھی سکتی

ہر اک جواب کے پیچھے کئی سوال رہے

 

میں تجھ کو دیکھوں تو پھر لمبی تان کے سو جاؤں

کہ حشر تک میرا ساتھی ترا جمال رہے

 

جو سہہ نہ سکتا ہو اپنے زوال کا صدمہ

یہ لازمی ہے کہ وہ شخص بے کمال رہے

 

غمِ فراق کے نرغے میں ہے امیدِ وصال

ہر اک لڑائی کی حد ہے احتمال رہے

 

ہوں میرے بیٹے میں اوصاف اُس کے دادا کے

کہ میرے ماضی سے پیوست میرا حال رہے

 

کہ جاٹ لوگ کبھی خوں بہا نہیں لیتے

تو قتل کر مجھے اے جاں! مگر خیال رہے

 

وہ ایک دن بھی طلوع ہو خوشی کا ، جنگل میں

وہ ایک دن کہ شکاری رہے ، نہ جال رہے

 

عجیب ہے کہ جو افضلؔ بھی ہیں اور احسنؔ بھی

وہ لوگ گردشِ دوراں سے پائمال رہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ