اردوئے معلیٰ

گُلہائے عشق اور گُلِ سوسنِ خلوص

گُلہائے عشق اور گُلِ سوسنِ خلوص

آئے نبی تو مہکا ہر اک گلشنِ خلوص

 

کرنے لگا ہوں جب سے محمد کی پیروی

محفوظ ہے شرر سے مرا خرمنِ خلوص

 

لہرائے کیوں نہ بادِ صبا میرے ارد گرد

مہکا ہوا ہے بوئے نبی سے تنِ خلوص

 

دستِ خلوص اپنا نبی کی طرف بڑھا

بنتا ہے روشنی کا سبب روزنِ خلوص

 

ظلم و ستم قریش کا سہنے کے باوجود

چھوڑا مرے نبی نے کہاں دامنِ خلوص

 

احسان آپ کا ہے بہت اس غلام پر

پھر کیوں کہوں نہ آپ کو میں محسنِ خلوص

 

ہے آپ ہی کے دم سے مرا قد بڑھا ہوا

ہے آپ ہی سے اونچی مری گردنِ خلوص

 

مانگوں گا پھر انہیں سے محبت کی بھیک میں

وہ مصدر خلوص ہیں وہ مخزنِ خلوص

 

صابر مرا خلوص تھا محتاجِ فن مگر

سیکھا ہے میں نے عشقِ نبی سے فنِ خلوص

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ