اردوئے معلیٰ

Search

گِرداب ، سفر کے لئے آزار ہوئے ہیں

دریا یہ سہولت سے کہاں پار ہوئے ہیں

 

وہ شور کہیں مل کے پرندوں نے کیا تھا

جس شور پہ ہم نیند سے بیدار ہوئے ہیں

 

اب اپنا ارادہ نہ بدل لینا کہ ہم لوگ۔

مشکل سے اجڑ جانے کو تیار ہوئے ہیں

 

صد شکر کسی کو تو ضرورت ہے ہماری

ہم لوگ ترے ہجر کو درکار ہوئے ہیں

 

ہر کرب کی سرخی ہے لکھی حرفِ جلی میں

چہرے بھی یہاں شام کا اخبار ہوئے ہیں

 

اب جسم کے ملبے سے نکالے کوئی ان کو

تعمیر کی حسرت میں جو مسمار ہوئے ہیں

 

عہدہ یہ بتاتے ہیں بڑی شان سے سب کو

ہم اپنے علاقے میں سخن کار ہوئے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ