اردوئے معلیٰ

گھروں کو سجاؤ، دلوں کو سنوارو، نگاہیں جھکاؤ، حضور آرہے ہیں

گھروں کو سجاؤ، دلوں کو سنوارو، نگاہیں جھکاؤ، حضور آ رہے ہیں

انہیں کی ہوں باتیں، انہیں کی ہوں نعتیں، سنو اور سناؤ حضور آ رہے ہیں

 

دلِ آمنہ کا سرور اللہ اللہ، حلیمہ کی آنکھوں کا نور اللہ اللہ

بہر سو قریب اور دور اللہ اللہ، یہی رکھ رکھاؤ حضور آ رہے ہیں

 

بہاروں نے فرشِ زمیں کو سجایا، نسیمِ سحر نے دلوں کو لُبھایا

سحر کی کرن نے یہ مژدہ سنایا، سنو بے نواؤ! حضور آ رہے ہیں

 

دو عالم پے چھائے ہیں رحمت کے بادل، بھرے ریگزارِ عرب اپنے چھاگل

ندا غیب سے آرہی ہے مسلسل، کہ ہر غم بھلاؤ، حضور آ رہے ہیں

 

وہ محبوب داور، رسولِ معظم، وہ حق کے پیغمبر، شہنشاہِ عالم

ہیں نورِ سراپا وہ حسنِ مجسم، دلوں کو لبھاؤ، حضور آ رہے ہیں

 

نگاہوں کو اپنی مصفّا بنا لو، دلوں کو حبیبِ خدا سے لگالو

چلو عمر بھر کے گنہ بخشوا لو، ارے پُر خطاؤ، حضور آ رہے ہیں

 

زمیں کی جبیں سے سیاہی دھلے گی، سیاہی دھلے گی قسمت کھلے گی

تو پھر سب کی قسمت بھی آواز دے گی، کہ خوشیاں مناؤ، حضور آ رہے ہیں

 

بڑی برکتوں والی رات آج کی ہے، کہ یہ صاحب تاج و معراج کی ہے

ندا یہ فرشتوں کے سرتاج کی ہے، پروں کو بچھاؤ، حضور آ رہے ہیں

 

ترا دل ہے آقا کی فرقت میں گھائل، سجائی ہے سرکار کی تو نے محفل

ندیم اسے مکمل شفا ہوگی حاصل، بھریں گے یہ گھاؤ، حضور آ رہے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ