گھر چکا ہوں میں گناہوں میں خدا

گھر چکا ہوں میں گناہوں میں خدا

لے لے تو اپنی پناہوں میں خدا

 

کر حفاظت کہ بہت ہی کم ہے

روشنی میری نگاہوں میں خدا

 

استقامت دے عزائم کو مرے

خار ہی ہیں راہوں میں خدا

 

کر عطا اپنی محبت مجھ کو

گم ہے دل من کے اِلاہوں میں خدا

 

دے ہدایت کہ خوشی ملتی ہے

بدعت و شرک کی باہوں میں خدا

 

اپنے انجام سے بے حد ڈر کر

آیا ہوں تیری پناہوں میں خدا

 

قلبِ ساحل کو مصفا کر دے

وہ مقید ہے گناہوں میں خدا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

امن عالم کے لیے انسانِ اکمل بھیج دے
پروردگار! صاحبِ ایمان کیا کریں
کچھ پتھروں کو قیمتی پتھر بنا دیا
مالکِ ارض و سما ہے ذات تیری بے عدیل
شعلۂ خورشید
وہ بھی کیا دور تھا
دل کو میرے کر دے اب سیراب رب العلمیں
ربِّ کریم اب مجھے مدح کا کچھ ہنر بھی دے
اے خدا! اپنے نبی کی مجھے قربت دے دے
امن کا سورج پھر چمکا دے یا اللہ

اشتہارات