گھر چکا ہوں میں گناہوں میں خدا

گھر چکا ہوں میں گناہوں میں خدا

لے لے تو اپنی پناہوں میں خدا

 

کر حفاظت کہ بہت ہی کم ہے

روشنی میری نگاہوں میں خدا

 

استقامت دے عزائم کو مرے

خار ہی ہیں راہوں میں خدا

 

کر عطا اپنی محبت مجھ کو

گم ہے دل من کے اِلاہوں میں خدا

 

دے ہدایت کہ خوشی ملتی ہے

بدعت و شرک کی باہوں میں خدا

 

اپنے انجام سے بے حد ڈر کر

آیا ہوں تیری پناہوں میں خدا

 

قلبِ ساحل کو مصفا کر دے

وہ مقید ہے گناہوں میں خدا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ