گھِرے طُوفاں میں ہیں، نظرِ کرم سرکارؐ ہو جائے

گھِرے طُوفاں میں ہیں، نظرِ کرم سرکارؐ ہو جائے

توجہ آپؐ فرمائیں، تو بیڑا پار ہو جائے

 

کرم کی اک نظر آقاؐ مرے دِل کی ہر اک دھڑکن

محبت، کیف و مستی، عشق سے سرشار ہو جائے

 

مجھے رکھنا ہمیشہ اپنے ہی حلقہ بگوشوں میں

ہیں مرکز آپؐ، میری زندگی پُرکار ہو جائے

 

چھپا لینا مرے آقاؐ مجھے دامانِ رحمت میں

مرا جب دُشمنِ جاں، درپئے آزار ہو جائے

 

اگر سرکارؐ اجازت دیں، اگر سرکارؐ فرمائیں

سگِ آوارہ، بے چارہ، سگِ دربار ہو جائے

 

گِنے جائیں سگِ در آپؐ کے جس دم، مرے آقاؐ

اشارہ میری جانب بھی، مری سرکارؐ ہو جائے

 

ظفرؔ کے رنج و غم یکدم بدل جائیں گے خوشیوں میں

حبیبِ کبریاؐ، گر مُونس و غم خوار ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

طبیعت فطرتاََ پائی سخن کے واسطے موزوں
جو دل میں نعت مرے اعتکاف کرتی ہے
ہے یہ میدانِ ثنا گر نہ پڑے منہ کے بل
عرض کی رب سے سکوں کا ہو کوئی نسخہ عطا
کیفِ یادِ حبیب زیادہ ہے
مقدَّر ہے مدینے میں
(سلام) نورِ چشمِ آمنہ اے ماہِ طلعت السلام
ساری دُنیا میں خوشی ہے اُن کے آنے کے طفیل
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
جب سے آقا کی نظر ہے واہ ، واہ

اشتہارات