اردوئے معلیٰ

Search

گھٹا فیضان کی امڈی ہوئی ہے

چمن کی ہر کلی نکھری ہوئی ہے

 

حرا کا چاند پہنچا ہے فلک پر

عرب کی سرزمیں اونچی ہوئی ہے

 

لبا لب بھر گیا ہے ظرف امکاں

تجلی اس قدر پھیلی ہوئی ہے

 

زمیں پر آسماں اترا ہے یا پھر

بلندی پر زمیں پہنچی ہوئی ہے

 

غرور و عرش و کرسی مٹ گیا ہے

نگاہ کہکشاں نیچی ہوئی ہے

 

فلک پر بے جھجک یوں جا رہے ہیں

کہ جیسے ہر جگہ دیکھی ہوئی ہے

 

ذرا طغیان شوق ان کا بھی دیکھو

کہ سد دو کماں ٹوٹی ہوئی ہے

 

عجب رقت ہے حوران جناں پر

فضا فردوس کی بھیگی ہوئی ہے

 

نہیں سدرہ ہی ان کے لطف سے خم

نگوں ہر شاخ طوبیٰ بھی ہوئی ہے

 

شب معراج کے احوال پڑھ کر

خرد کو چوکڑی بھولی ہوئی ہے

 

ہوئے ہیں عرش پر بخشش کے وعدے

سقر کی شعلگی ٹھٹھری ہوئی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ