اردوئے معلیٰ

Search

گھٹا مہیب بلاؤں کی سر پہ چھائی ہے

دہائی ہے مرے اللہ تری دہائی ہے

 

سمجھ میں بات یہی تجربہ سے آئی ہے

صلہ وفا کا زمانے سے، بے وفائی ہے

 

غموں کی دل سے مرے طاقت آزمائی ہے

یہ دیکھنا ہے کہ اب کس کی شامت آئی ہے

 

ہنسے نہ گُل نہ کلی کوئی مسکرائی ہے

چمن میں شور ہے لیکن بہار آئی ہے

 

بھنور میں لا کہ پھنساتے رہے سفینہ کو

عجیب طرز کا یہ عہدِ نا خدائی ہے

 

جُدا کرو نہ مرے دیں کو میری دنیا سے

یہ دونوں مل کے ہی کہتے ہیں اک اکائی ہے

 

کیا نظرؔ نے ہے کیوں ترکِ صحبتِ یاراں

نہ جانے اس کی طبیعت میں کیا سمائی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ