گہری نیند (سیلاب کے موقع پر لکھی گئی ایک نظم)

مانجھیوں کا تھا رزق جو پانی
اب انہیں کو ڈبو رہا ہے کیوں؟
جاگ اُٹھاّ چناب پھر شاید
موت ہے لہر لہر پانی کی
پیاس سب کی بُجھانے والایم
بھُوک اپنی مٹا رہا ہے اب
ہر کوئی سر جھُکا رہا ہے اب
بستیاں سو گئی ہیں
گہری نیند
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

 ایک ادا
رودادِ سفر جس کو سنائی ترے در کی
وہ جس کا سایہ ازل سے نشانِ رحمت ہے
جس سے رشتہ ہے نہ ناتا میرا
کیا کریں گے مِل کے
تمہار ے لئے ایک نظم
مجھے آپؐ سے جو محبت نہ ہوتی
ڈور سے اُڑتی چڑیا کا پَر کٹ گیا
خواب ترے جو دل کی پگڈنڈی سے ہٹ جاتے
وہ ہمارے لہو کو حدّت سے

اشتہارات