اردوئے معلیٰ

Search
مانجھیوں کا تھا رزق جو پانی
اب انہیں کو ڈبو رہا ہے کیوں؟
جاگ اُٹھاّ چناب پھر شاید
موت ہے لہر لہر پانی کی
پیاس سب کی بُجھانے والایم
بھُوک اپنی مٹا رہا ہے اب
ہر کوئی سر جھُکا رہا ہے اب
بستیاں سو گئی ہیں
گہری نیند
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ