ھر حقیقت سے الگ اور فسانوں سے پرے

ھر حقیقت سے الگ اور فسانوں سے پرے

مُنتظر ھُوں مَیں ترا سارے زمانوں سے پرے

 

پھر مَیں اک روز بڑی گہری اُداسی سے ملا

بستیوں کے سبھی آباد مکانوں سے پرے

 

نہ زماں ھو نہ مکاں ھو نہ خلا ھو نہ خُدا

صرف ھم تُم ھوں کہیں سارے جہانوں سے پرے

 

عکس در عکس رُلاتی تھیں مُجھے جو آنکھیں

چھوڑ آیا ھُوں اُنہیں آئنہ خانوں سے پرے

 

خواب دیکھا ھے، دُعا کر کہ یہ جُھوٹا نکلے

مَیں کہیں اشک فشاں تھا ترے شانوں سے پرے

 

رونے دھونے کے لیے ھم نے بنایا ھُوا ھے

اک ٹھکانہ سبھی معلُوم ٹھکانوں سے پرے

 

مَیں دعاؤں میں بھی کرتا ھُوں ترے نام کا ورد

تُو نہیں ھے مری تسبیح کے دانوں سے پرے

 

میرے رونے سے خفا ھو کے وہ بولا، فارس

اپنی چیخوں کو تُو لے جا مرے کانوں سے پرے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بدن میں دل کو رکھا ہے بنا کے خانہِ عشق
کچھ تو اپنے ہیں مرے دل میں سمائے ہوئے لوگ
وہ بھی اب مجھ کو بہ اندازِ زمانہ مانگے
اِس سے پہلے کہ کوئی اِن کو چُرا لے، گِن لو
کسی بھی طَور بہلتا نہیں جنُوں تیرا
اذیت سب کا ذاتی مسئلہ ہے
ایک منظر ہے فروزاں دودھیا قندیل میں
مجھ کو چھپا حروف کے آنچل میں شاعری
نیا سلسلہ آئے دن امتحاں کا
جو ایک باس گھنے جنگلوں میں آتی ہے