ھر چیز مُشترک تھی ھماری سوائے نام

ھر چیز مُشترک تھی ھماری سوائے نام

اور آج رہ گیا ھے تعلُّق برائے نام

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شعلوں بھرا سفر سہی ، آگ کی رھگذر سہی
تارِ مژگاں پہ ہم تیری یادوں کے جُگنو پرونے لگے
سیاہ بستی سے جب محبت کی کھوج میں گھڑ سوار آئیں
ہمارے شہر میں شاید ہوں منتظر آنکھیں
میں کہیں، یاد کہیں، خواب کہیں ہے میرا
جس کو دیکھو وو نور کا بقعہ
گل و گلچیں کا گلہ بلبل خوش لہجہ نہ
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشہ ہے
باقی نقصان تو ٹھوکر میں پڑے رہتے ہیں
ایک اس پھول کے نہ ہونے سے