ھمارے اجداد نے کہا تھا کہ بُت پرستی نہیں کریں گے

ھمارے اجداد نے کہا تھا کہ بُت پرستی نہیں کریں گے

مگر ھمیں ایسا بُت مِلا ھے کہ بے وقوفی نہیں کریں گے

 

مزارِ غالب کی ساری اینٹوں سے اِس قدر ھے ھمیں عقیدت

کہ جنگ چِھڑ بھی گئی تو دِلّی پہ گولہ باری نہیں کریں گے

 

اگر حکومت تُمہاری تصویر چھاپ دے نوٹ پر، مِری دوست

تو دیکھنا تُم کہ لوگ بالکل فضول خرچی نہیں کریں گے

 

ھمارے سالار کو بھی فرماں روائی کا شوق ھے، لہٰذا

ھم اصل حقدار شاھزادے کی تاج پوشی نہیں کریں گے

 

ھمارے چند اچھے دوستوں نے یہ وعدہ خود سے کیا ھوا ھے

کہ شکل اللّہ نے اچھی دی ھے سو بات اچھی نہیں کریں گے

 

دکھا کے آیا ھوں اپنے یاروں کو اپنے بٹوے میں تیری تصویر

سو آج کے بعد تیری آنکھوں میں تانکا جھانکی نہیں کریں گے

 

تُو شاھزادی سہی مگر ھم غریب پکّے ھیں اپنی دُھن کے

اگرچہ کچّے گھروں سے آئے ھیں، بات کچّی نہیں کریں گے

 

ھم ایسے شدّت پسند لوگوں کو مت محبت کا مشورہ دو

ھمیں خبر ھے کہ جب محبت کریں گے، تھوڑی نہیں کریں گے

 

عجیب مَے کش ھیں، خوب پی کر یہ روز کرتے ھیں خود سے وعدہ

کہ آج گر بچ گئے تو کل سے شراب نوشی نہیں کریں گے

 

جنہوں نے اُس سانولی کے نمکین خال و خد کو چکھا ھے فارس

نمک کی حُرمت کو جانتے ھیں، نمک حرامی نہیں کریں گے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں
لعل و گُہَر کہاں ھیں، دفینوں سے پُوچھ لو
عشق کچھ ایسی گدائی ھے کہ سبحان اللہ
لو آج ماں، مِری خالہ سے بات کر لے گی
آگئے آپ پر آئے بڑی تاخیر کے ساتھ
اِس کے ہر ذرّے سے پیمان دوبارہ کر لو
یادوں کا ابر چھایا ہے خالی مکان پر
نشے میں ڈُوب گیا مَیں ، فضا ھی ایسی تھی
کوئی صداء ، سوال ، طلب ، کچھ نہیں رہا
گماں امکان کی تاویل ہونے پر نہیں آتا