ہاتھوں میں نازکی سے سنبھلتی نہیں جو تیغ

ہاتھوں میں نازکی سے سنبھلتی نہیں جو تیغ

ہے اس میں کیا گناہ تیرے جاں نثارؔ کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نام و نسب کو چھوڑئیے نسبت تو دیکھیے
جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے
قہقہوں سے لدے پھندے ھوئے شخص
نیا کرایے دار یہ سُن کر کانپ رہا ہے
ہمارے دل کی بربادی کا افسانہ ہے بس اتنا
ترا لہجہ تھا جاناں شیر و شبنم سے عبارت ترا لہجہ
لہجہ ہے کیسا سرد، رویّہ ہے کیسا خشک
راہ الفت میں ملاقات ہوئی کس کس سے
اس کا درشت لہجہ اسے اس طرح
صدیوں میں کوئی ایک محبت ہوتی ہے