ہاتھ میں تھامے ہوئے اُن کی عطا کا دامن

ہاتھ میں تھامے ہوئے اُن کی عطا کا دامن

رشکِ ایجاب ہوا حرفِ دُعا کا دامن

 

اُن کے تذکار سے مانوس ہے دل کی دھڑکن

اور دھڑکن سے ہے مربوط وفا کا دامن

 

جب بھی سوچوں سے اُلجھتا ہے ہوس کا سورج

سایہ کرتا ہے مرے سر پہ ثنا کا دامن

 

کیا خبر کون سی ساعت میں بُلاوا مہکے

عرضیاں تھام کے بیٹھا ہے ہَوا کا دامن

 

اُن کی نعلین کو چھو آئے سخن کی رفعت

اے خدا شعر کو دے حرفِ رسا کا دامن

 

سیدہؑ آپ کی تطہیر کی رحمت کے سبب

میری بیٹی کو ملے شرم و حیا کا دامن

 

میرے ہاتھوں میں ہے مقصودِؔ جہاں کی دولت

میرے ہاتھوں میں ہے محبوبِ ُخدا کا دامن

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میری جانب بھی ہو اک نگاہِ کرم، اے شفیع الواریٰ، خاتم الانبیاء
کبھی کبھی یہ نظارہ بچشم تر آیا
اللہ ہو گر اُس کا ثنا گر ، نعت کہوں میں کیسے
لب پہ صلِ علیٰ کے ترانے اشک آنکھوں میں آئے ہوئے ہیں
منتظر تیرے سدا عقدہ کُشا رکھتے ہیں
شمع دیں کی کیسے ہو سکتی ہے مدہم روشنی
یاد
اک عالمگیر نظام
دل میں رہتے ہیں سدا میرے نبی​
ہیں سر پہ مرے احمدؐ مشکل کشا کے ہاتھ