اردوئے معلیٰ

Search

ہجراں میں در بدر ہوئے ہم قربتوں کے بعد

دے دی گئی زمین ہمیں جنّتوں کے بعد

 

چھینے گا مجھ سے اور غمِ روزگار کیا

دامن میں کیا بچا ہے بھلا حسرتوں کے بعد

 

ہو آئے اُس گلی میں تماشہ بنے ہوئے

فرصت ملی تھی آج بڑی مدتوں کے بعد

 

معمارِ ارضِ نو بھی وہی لوگ تھے جنہیں

اک مشتِ خاک بھی نہ ملی ہجرتوں کے بعد

 

تعمیرِ نو میں شہر کی اتنا رہے خیال

ٹوٹی فصیل بھی ہے شکستہ چھتوں کے بعد

 

سفّاک دن ہیں گھات میں بیٹھے ہوئے ظہیرؔ

اک حملۂ غنیم ہے اِن جگ رتوں کے بعد

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ