اردوئے معلیٰ

Search

 

ہجر تیرا مجھر اچھا نہیں ہونے دے گا

نا شکیبا کو شکیبا نہیں ہونے دے گا

 

میں گنہگار ہوں لاریب مگر محشر میں

میرا آقا مجھے رسوا نہیں ہونے دے گا

 

میرا اللہ فقط کام بنائے گا مرا

مجھ کو ناکامِ تمنا نہیں ہونے دے گا

 

جل رہا ہے یہاں تہذیب کا مصطفوٰی چراغ

جو زمانے میں اندھیرا نہیں ہونے دے گا

 

میں ہوں دیوانہِ محبوبِ خدا دیدہ ورد

یہ جنوں اور کسی کا نہیں ہونے دے گا

 

ایک قطرے کو ہے معلوم حقیقت اپنی

ظرف اس کا اسے دریا نہیں ہونے دے گا

 

ابرِرحمت ہے جو ہر سمت برستا جائے

باغِ ہستی کو وہ صحرا نہیں ہونے دے گا

 

رات دن صّلِ علیٰ میری زباں پر جاری

ذکر اس کا مجھے تنہا نہیں ہونے دے گا

 

اس کا فیضان کرم مجھ پہ ہے بے حد قیصر

اب وہ محتاج کسی کا نہیں ہونے دے گا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ