اردوئے معلیٰ

Search

ہجر میں جو لی گئی تصویر ہے

یہ ہماری آخری تصویر ہے

 

موت بھرتی جا رہی ہے اپنے رنگ

زندگی مٹتی ہوئی تصویر ہے

 

تم جسے کہتے ہو جسموں کی قطار

اصل میں دیوار کی تصویر ہے

 

یار لوگوں سے گلے ملنا ہے کیا

کوئی پتّھر ہے کوئی تصویر ہے

 

مٹ گئی تصویر پہلے عشق کی

سامنے اب دوسری تصویر ہے

 

جتنی تصویریں ہیں میرے سامنے

سب سے اچّھی آپ کی تصویر ہے

 

کچھ نہیں بدلا تمہارے بعد بھی

زندگی تصویر تھی ‘ تصویر ہے

 

روح نے رکّھا ہوا ہے سب بھرم

ورنہ ہر اک آدمی تصویر ہے

 

ڈھل گئی ہے پیاس میری نقش میں

یہ جو پانی پر بنی تصویر ہے

 

ہاتھ میں ٹکڑے خطوں کے ہیں فقـیہہؔ

آنکھ میں جلتی ہوئی تصویر ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ