اردوئے معلیٰ

Search

ہجر کو خاک میں سمو کے دکھا

بیج اب خواہشوں کا بو کے دکھا

 

ضبط کہتا رہا کہ شش ! خاموش

زخم کہتا رہا کہ رو کے دکھا

 

سینکڑوں تجھ پہ مرنے والی ہیں ؟

چل مجھے فون ایک دو کے دکھا

 

کہہ دیا کہ نہیں دکھا منظر

بس نہیں کہہ دیا ہے ، گو کہ دکھا

 

تو مرے بعد خوب روئے گا

آنکھیں بند کر مجھے تو سو کے دکھا

 

مار ڈالوں گی مر بھی جاؤں گی

تو کسی اور کا تو ہو کے دکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ