ہجر کے کرب سے ، یوں لَف سے ، نکل آئیں گے

ہجر کے کرب سے ، یوں لَف سے ، نکل آئیں گے

سازِ وحشت ہیں ، کسی دَف سے نکل آئیں گے

 

ہاتھ پہ لکھے ہوئے حرف چھپا لو ، ورنہ

سینکڑوں راز مخفف سے نکل آئیں گے

 

اتنے دشمن تو خدایا کسی دشمن کے نہ ہوں

ہاتھ جھٹکوں تو کئی کَف سے نکل آئیں گے

 

وقت پڑنے پہ مددگار ہیں آنسو میرے

ایک آواز پہ سَو ، صَف سے نکل آئیں گے

 

تم بلاؤ تو سہی شوق ملاقات میں ہم

جس بھی حالت میں ہوئے ، رَف سے ، نکل آئیں گے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ذرا ہیں لوگ مُختلف، ذرا سی ہے سِپاہ اور
معلوم ہے جناب کا مطلب کچھ اور ہے
عشق سے پہلے بُلاتا تھا میں تُو کر کے اُسے
کیا مرے دکھ کی دوا لکھو گے
کہیں بھڑکا ہوا شعلہ کہیں پر پھول فن میرا
نا رسائی کی تکالیف اُٹھاؤ کب تک
اُڑتے ہوئے غبار میں اجسام دیکھتے
ساتھ کب تک کوئی چلا مت پوچھ
واقف جہانِ غم سے نہ ہو ، اپنے غم سے ہو
ائے تو ، کہ جسے آج بھی خوابوں پہ یقیں ہے

اشتہارات