اردوئے معلیٰ

Search

ہجومِ دُشمناں اب چار سُو ہے

محافظ اُمتِ عاجز کا اب تُو ہے

 

یہ لمحہ معتبر ہے ، محترم ہے

مرے ہونٹوں پہ تری گفتگو ہے

 

مہ کامل ہے روشن تر وہ چہرہ

جہاں میں کون ایسا خوبرو ہے

 

تصور سبز ہے ، آنسو معطر

یہ کیسا رنگ ہے ؟ یہ کیسی بُو ہے ؟

 

میں ہجرِ مصطفیٰ میں رو رہا ہوں

مرا گریہ ، مرے دل کا وضو ہے

 

وہ جالی دیکھنا ، پھر اُس کو چھونا

خوشا! کیسی سنہری آرزو ہے

 

وہ مکہ ہو کہ ہو شہر مدینہ

قسم اس شہر کی ہے جس میں تو ہے

 

ادب اُن کا ، محافظ ہر عمل کا

گواہی آیۂ "​ لا ترفعوا "​ ہے

 

مقامِ بندگی پر غور کیجیے

کہ ہم صرف عبد ہیں ، وہ عبدہُ ہے

 

غزل خود نعت میں ڈھلتی ہے اخترؔ

سخن میں کیا حسیں ذوقِ نمو ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ