اردوئے معلیٰ

ہرشے ہے نوربار مدینہ شریف میں

ہے لیل بھی نہار مدینہ شریف میں

 

ہر ذہن پر سکون ہے ہر آنکھ شاد کام

ہر دل کو ہے قرار مدینہ شریف میں

 

خیرات نور لینے کو آئے ہر ایک صبح

خورشید تابدار مدینہ شریف میں

 

یوں تو ہر ایک شہر میں مایوسیاں ملیں

ٹوٹا نہ اعتبار مدینہ شریف میں

 

شاہ و گدا، غلام، شہنشاہ، کوئی ہو

ہے سب کا تاجدار مدینہ شریف میں

 

جس کی عطا سے دونوں جہاں مستفیض ہیں

ہے وہ کرم شعار مدینہ شریف میں

 

اے کاش فخروشان سے کہتا پھرے کفیل

رہتا ہے خاکسار مدینہ شریف میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات