ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی

ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی

ہے گنبد خضراء کی جھلک اور طرح کی

 

ہر آن خیالوں میں ہے اس شہر کی ٹھنڈک

چلتی ہے جہاں بادِ خنک ، اور طرح کی

 

جھونکا کوئی گزرا ہے مدینے کی ہوا کا

اطراف میں ہے آج مہک، اور طرح کی

 

جب لوٹ کے آتے ہیں مدینے کے مسافر

ہوتی ہے جبینوں پہ چمک، اور طرح کی

 

اشکوں کی جو برسات ہوئی یادِ نبیؐ میں

پھیلی افقِ جاں پہ دھنک، اور طرح کی

 

یہ سرورِ عالم کی غلامی کی عطا ہے

رہتی ہے جو لہجے میں کھنک، اور طرح کی

 

پلکوں پہ جو روشن ہے مدینے کے سفر میں

یہ شمع ہے اے بامِ فلک اور طرح کی

 

کرتا ہوں میں جب مدحِ محمدؐ کا ارادہ

ملتی ہے مدینے سے کمک اور طرح کی

 

سرور نے سنا ہے یہی شاہانِ سخن سے

ہے نعت کے لکھنے میں جھجک اور طرح کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی
خدا کے واسطے لے چل صبا مدینے میں
پھر کرم ہوگیا میں مدینے چلا
معطّر شُد دل از بوئے محمّد
دلدار بڑے آئے محبوب بڑے دیکھے
خالق کے شاہکار ہیں خلقت کے تاجدار
خوشبو اُتر رہی ہے مرے جسم وجان میں
بسائیں چل کے نگاہوں میں اُس دیار کی ریت
دونوں جہاں میں حسن سراپا ہیں آپ ہی
ذات عالی صفات کے صدقے

اشتہارات