اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

ہر اِک تخلیق کے من کی صدا اللہ الف اللہ

 

ہر اِک تخلیق کے من کی صدا اللہ الف اللہ

سبق پہلا جو بچپن میں پڑھا اللہ الف اللہ

 

فنا ہر شے کی بس تیری بقا اللہ الف اللہ

تری جاگیر ہیں ارض و سما اللہ الف اللہ

 

گرج میں بادلوں کی یہ سُنا اللہ الف اللہ

خموشی میں ستاروں کی ندا اللہ الف اللہ

 

یہی سبزے پہ شبنم نے لِکھا اللہ الف اللہ

ہر اِک غنچے نے کھلتے ہی کہا اللہ الف اللہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا رب عظیم ہے تو
دُور کر دے مرے اعمال کی کالک‘ مالک!
نشاں اسی کے ہیں سب اور بے نشاں وہ ہے
مرا ستّار ہے، میرا خُدا ہے
دیکھوں جدھر بھی تیرا ہی جلوہ ہے رُو برُو
کرے انساں جو انساں سے بھلائی
خدا کے نُور سے روشن جہاں ہیں
عظیم المرتبت ربّ العلیٰ عظمت نشاں ہے
معظم ہے خدا ہی محترم ہے
مرا وردِ زباں اللہ اکبر