ہر اِک چمن ہے خزاں رسیدہ ہر ایک گلزار سوختہ ہے

ہر اِک چمن ہے خزاں رسیدہ ہر ایک گلزار سوختہ ہے

بس اِک مدینے کا باغ ہے جو بفضلِ رَبِّی ہرا بھرا ہے

 

فراقِ طیبہ میں اب تو شاید جگر مرا خون ہو چلا ہے

میں اُن فضائوں سے دور رہ کر جیوں، کہاں میرا حوصلہ ہے

 

محبتوں کے ہزار دعوے مگر عمل کے نشان دھندلے

عمل کی راہیں تمام سونی ہیں،یہ عجب جذبۂ وفا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کرم ہو یارب لحد میں اتنا، سوال ہو سامنے جو ان کے
بسایا میں نے دل میں مصطفیٰؐ ہے
یہ لُطف و کرم اُنؐ کا ہے یہ اُنؐ کی عطا ہے
ہے مجھے عشق حضورؐ آپ سے پیار آپؐ سے ہے
فکرِ سرکارؐ وجہِ راحت ہے
مجھے سرکارؐ سے وابستگی دے
ہے مخلوقات پہ احسان اُنؐ کا
آسماں آسماں قدم اُس کے
’’عرش پر دھومیں مچیٖں وہ مومنِ صالح ملا‘‘
’’جاگ اُٹھّی سوئی قسمت اور چمک اُٹھّا نصیب‘‘