اردوئے معلیٰ

Search

ہر اِک چمن ہے خزاں رسیدہ ہر ایک گلزار سوختہ ہے

بس اِک مدینے کا باغ ہے جو بفضلِ رَبِّی ہرا بھرا ہے

 

فراقِ طیبہ میں اب تو شاید جگر مرا خون ہو چلا ہے

میں اُن فضاؤں سے دور رہ کر جیوں، کہاں میرا حوصلہ ہے

 

محبتوں کے ہزار دعوے مگر عمل کے نشان دھندلے

عمل کی راہیں تمام سونی ہیں،یہ عجب جذبۂ وفا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ