ہر آنکھ با وضو ہے زباں پر سلام ہے

ہر آنکھ با وضو ہے زباں پر سلام ہے

چوکھٹ ہے مصطفٰی کی ،جہاں پر قیام ہے

 

آنکھیں ہی نم نہیں ہیں مدینے کے شہر میں

رقت میں پورے جسم کا ہر اک مسام ہے

 

منکر نکیر تیسرا جلدی کرو سوال

بیتاب ان کی دید کو کب سے غلام ہے

 

آنکھیں براہِ اشک سنائیں گی حالِ دل

خاموش رہ زباں کہ ادب کا مقام ہے

 

نعلین چوم کر تُو ہوا ہوگا کیا نہال

اے عرش تیری شان کو میرا سلام ہے

 

اے کاش شاہ بھیک عطا دید کی کریں

امشب ثنا کا خواب میں پھر اہتمام ہے

 

اشعار بھول جائیں گے باقی ترے عطا

مدحت کے جو بھی شعر ہیں ان کو دوام ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
مرے آقاؐ، کرم مُجھ پر خُدارا
آپؐ کے پیار کے سہارے چلوں
نبیؐ کا گُلستاں ہے اور میں ہوں
ذکرِ نبیؐ سے ہر گھڑی معمُور ہوتا ہے
نہیں بیاں کی ضرورت، حضور جانتے ہیں
کمال اسم ترا، بے مثال اسم ترا

اشتہارات