اردوئے معلیٰ

ہر آنکھ با وضو ہے زباں پر سلام ہے

چوکھٹ ہے مصطفٰی کی ،جہاں پر قیام ہے

 

آنکھیں ہی نم نہیں ہیں مدینے کے شہر میں

رقت میں پورے جسم کا ہر اک مسام ہے

 

منکر نکیر تیسرا جلدی کرو سوال

بیتاب ان کی دید کو کب سے غلام ہے

 

آنکھیں براہِ اشک سنائیں گی حالِ دل

خاموش رہ زباں کہ ادب کا مقام ہے

 

نعلین چوم کر تُو ہوا ہوگا کیا نہال

اے عرش تیری شان کو میرا سلام ہے

 

اے کاش شاہ بھیک عطا دید کی کریں

امشب ثنا کا خواب میں پھر اہتمام ہے

 

اشعار بھول جائیں گے باقی ترے عطا

مدحت کے جو بھی شعر ہیں ان کو دوام ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات