اردوئے معلیٰ

Search

ہر اک ذرے میں احمد کا گزر ضو بار باقی ہے

مدینے میں جہاں جاؤں وہاں دیدار باقی ہے

 

رواں سانسوں کی مالا میں نہاں احمد کا مسکن ہے

دھڑکتے دل کی شوکت میں وہی دلدار باقی ہے

 

مرے احمد کہیں گے حشر میں امت کی بخشش کا

شفاعت حشر میں کرنے کا اک پِندار باقی ہے

 

لحد میں غم گسارِ دل فگاراں ہی سہارا دے

ہر اک رشتہ جہاں چھوڑے وہاں غم خوار باقی ہے

 

مکمل کر نہیں پایا میں بِستارِ نبی اب تک

مری ہستی ضروری ہے مری گفتار باقی ہے

 

لحد میں پوچھنے آئے ملائک مجھ سے مولا کا

زباں بولی کہ خضرٰی میں مرا سردار باقی ہے

 

زیارت کی تمنا جس کسی نے کی ہوئی پوری

ہر اک بطحا سے ہو آیا فقط حبدار باقی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ