اردوئے معلیٰ

ہر اک سانس وقف ثنائے نبی ہے

مری زندگی اب مری زندگی ہے

 

مرا دل بھی گنجینۂ آگہی ہے

زباں پر فقط یا نبی یا نبی ہے

 

مدینے کی گلیوں کو سوچا تھا میں نے

ابھی تک مرے ذہن میں روشنی ہے

 

نظر میں ہے نقش کف پائے آقا

خود اب میری منزل مجھے ڈھونڈتی ہے

 

رسولِ دوعالم کی ہے آمد آمد

جدھر دیکھیے رحمتوں کی جھڑی ہے

 

تری ذات ہے وجہِ بنیادِ عالم

تری ذات پر ختم پیغمبری ہے

 

فلک بوسہ لیتے ہیں قدموں کا انجمؔ

تمنا درِ مصطفیٰ پر پڑی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات