ہر اک سانس وقف ثنائے نبی ہے

ہر اک سانس وقف ثنائے نبی ہے

مری زندگی اب مری زندگی ہے

 

مرا دل بھی گنجینۂ آگہی ہے

زباں پر فقط یا نبی یا نبی ہے

 

مدینے کی گلیوں کو سوچا تھا میں نے

ابھی تک مرے ذہن میں روشنی ہے

 

نظر میں ہے نقش کف پائے آقا

خود اب میری منزل مجھے ڈھونڈتی ہے

 

رسولِ دوعالم کی ہے آمد آمد

جدھر دیکھیے رحمتوں کی جھڑی ہے

 

تری ذات ہے وجہِ بنیادِ عالم

تری ذات پر ختم پیغمبری ہے

 

فلک بوسہ لیتے ہیں قدموں کا انجمؔ

تمنا درِ مصطفیٰ پر پڑی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
نہیں ہے منگتا کوئی بھی ایسا کہ جس کا دامن بھرا نہیں ہے
واحسن منک لم ترقط عینی
شکر صد شکر کہ رہتی ہے مجھے یاد مدینہ
وہ کہ ہیں خیرالا نام
خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
خالق عطا ہو صدقہ محمد کے نام کا
واحد ہے تو تنہا ہے، تو ذات میں یکتا ہے
گدا کو دید کا شربت پلا دو یا رسول اللہ
جو بھی فدائی شہِ کون ومکاں ہوا

اشتہارات