ہر اک لب پہ نعت نبی کے ترانے ہر اک لب پہ صلِ علیٰ کی صدا ہے

ہر اک لب پہ نعت نبی کے ترانے ہر اک لب پہ صلِ علیٰ کی صدا ہے

ہمارے نبی جس میں تشریف لائے وہ رحمت کا پر نور دن آگیا ہے

 

درودوں کے تحفے سلاموں کے ہدیے دعاؤں کے منظر عقیدت کے نعرے

مقدس مقدس ہر اک سمت جلوے معطر معطر ہر اک سو فضا ہے

 

عطاؤں کی بارش دعا کی گھڑی ہے ہر اک شخص کی آپ سے لو لگی ہے

ہر اک آنکھ میں آنسوؤں کے سمندر ہر اک دل میں تعظیم کا در کھلا ہے

 

خدا کی خدائی کے مختار ہیں وہ تمام انبیاء کے بھی سردار ہیں وہ

خدا کی خدائی طلبگار ان کی مقام ان کو رب نے عطا وہ کیا ہے

 

اٹھے گی وہ چشمِ کرم غم کے مارو انہیں دل کی گہرائیوں سے پکارو

نچھاور کرو پھول ان پہ ثنا کے اسی میں ہی آسؔ اپنے رب کی رضا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ