ہر ایک سانس مری وقف ہے نبی کے لیے

ہر ایک سانس مری وقف ہے نبی کے لیے

اب اور چاہیے کیا مجھ کو زندگی کے لیے

 

قبولیت کے شرف سے نواز دیں آقا

یہ شعر میں نے کہے ہیں بس آپ ہی کے لیے

 

نبی کی چشم بصیرت کا پوچھنا کیا ہے

یہ کائنات ہے ذرہ جب اک ولی کے لیے

 

میں راہ حق سے کبھی بھی بھٹک نہیں سکتا

کہ نقش پائے شہ دیں ہے رہبری کے لیے

 

چراغِ عشق نبی طاق دل میں ہو روشن

یہ انقلاب ضروری ہے زندگی کے لیے

 

ہمیشہ ورد درود و سلام کا رکھیے

یہی ہے شمع اندھیرے میں روشنی کے لیے

 

اگر مدینہ پہنچ جاؤں گا مقدر سے

تو اک قصیدہ کہوں گا اک اک گلی کے لیے

 

دیار جاں میں بہاروں کے قافلے اترے

جو میری فکر نے بوسے در نبی کے لیے

 

در رسول کا اک ذرہ کیا ملا سرورؔ

یہ لگ رہا ہے ملا تاج سروری کے لیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جسے عشق شاہ رسولاں نہیں ہے
کتنا سادہ بھی ہے سچا بھی ہے معیار ان کا
اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوا
یہ آرزو ہے جب بھی کُھلے اور جہاں کُھلے
اُس ایک ذات کی توقیر کیا بیاں کیجے
رحمت عالم محمد مصطفی
مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو
آرام گہِ سید سادات یہ گنبد
محفل میں تھا اکیلا , تھے جذبات منفرد
اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا

اشتہارات