اردوئے معلیٰ

ہر ایک سانس مری وقف ہے نبی کے لیے

اب اور چاہیے کیا مجھ کو زندگی کے لیے

 

قبولیت کے شرف سے نواز دیں آقا

یہ شعر میں نے کہے ہیں بس آپ ہی کے لیے

 

نبی کی چشم بصیرت کا پوچھنا کیا ہے

یہ کائنات ہے ذرہ جب اک ولی کے لیے

 

میں راہ حق سے کبھی بھی بھٹک نہیں سکتا

کہ نقش پائے شہ دیں ہے رہبری کے لیے

 

چراغِ عشق نبی طاق دل میں ہو روشن

یہ انقلاب ضروری ہے زندگی کے لیے

 

ہمیشہ ورد درود و سلام کا رکھیے

یہی ہے شمع اندھیرے میں روشنی کے لیے

 

اگر مدینہ پہنچ جاؤں گا مقدر سے

تو اک قصیدہ کہوں گا اک اک گلی کے لیے

 

دیار جاں میں بہاروں کے قافلے اترے

جو میری فکر نے بوسے در نبی کے لیے

 

در رسول کا اک ذرہ کیا ملا سرورؔ

یہ لگ رہا ہے ملا تاج سروری کے لیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات