ہر ایک لمحے کے اندر قیام تیرا ہے

ہر ایک لمحے کے اندر قیام تیرا ہے

زمانہ ہم جسے کہتے ہیں نام تیرا ہے

 

درائے اول و آخر ہے تو مرے مولٰی

نہ ابتدا نہ کوئی اختتام تیرا ہے

 

تری ثنا میں ہے مصروف بے زبانی بھی

سکوتِ وقت کے لب پہ کلام تیرا ہے

 

شعور نے سفرِ لاشعور کر دیکھا

تمام لفظ ہیں اسکے ’دوام‘​ تیرا ہے

 

تمام عمر کٹے اِک طویل سجدے میں

اِس اختصار کی بخشش بھی کام تیرا ہے

 

بہت قریب ہے فطرت سے روحِ انسانی

ہر اِک نظام سے بڑھ کر نظام تیرا ہے

 

وہ خود کو جان گیا جس نے تجھ کو پہچانا

وہ محترم ہے جسے احترام تیرا ہے

 

ہر ایک سانس سے آواز آ رہی ہے تری

مرا دھڑکتا ہُوا دل، پیام تیرا ہے

 

کہاں بیانِ مُظؔفّر کہاں بڑائی تری

جو تھا جو اب ہے جو ہوگا ، تمام تیرا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اے عالم نجوم و جواہر کے کردگار
برگِ گل، شاخ ہجر کا کر دے
جو سب سے پوشیدہ رہ کے سب کو لُبھا رہا ہے
میری ہر دھڑکن عبادت ہے تری، میرے خدا!
خدا کے نام سے ہی ابتدا ہے
خدا کی حمد کے اشعار بے خود گنگناتا ہوں
میانِ قعرِ دریا جس نے اللہ کو پُکارا ہے
اگر ہے جستجو رب کی رضا کی
خدا ہی دل رُبا و دل نشیں ہے
رحیم و مہرباں میرا خدا ہے