اردوئے معلیٰ

Search

ہر بات ہے الٹی دنیا کی الٹے ہیں سب اس کے افسانے

جب ہوش خرد کو آیا کچھ کہلائے گئے ہم دیوانے

 

تاریک پسندی عام سہی پھر بھی ہے قرینہ محفل کا

جب شمعِ حقیقت جل اٹھی گرد آ ہی گئے کچھ پروانے

 

ہے ہوش ہمیں اتنا تو ابھی مجبور نہ کر اے وحشتِ دل

برباد ہی ہوتا معمورہ آباد کروں گر ویرانے

 

طوفانِ مجسم بن کے وہی اب آئے نظر منزل کے قریں

محسوس ہوئے تھے قبلِ سفر جو خوف کہ دل کو انجانے

 

انکار نہیں کچھ پینے سے جتنی بھی ملی ہم پی لیں گے

توحید کی مے ہو خالص اور عرفانِ نظرؔ کے پیمانے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ