ہر بات ہے الٹی دنیا کی الٹے ہیں سب اس کے افسانے

ہر بات ہے الٹی دنیا کی الٹے ہیں سب اس کے افسانے

جب ہوش خرد کو آیا کچھ کہلائے گئے ہم دیوانے

 

تاریک پسندی عام سہی پھر بھی ہے قرینہ محفل کا

جب شمعِ حقیقت جل اٹھی گرد آ ہی گئے کچھ پروانے

 

ہے ہوش ہمیں اتنا تو ابھی مجبور نہ کر اے وحشتِ دل

برباد ہی ہوتا معمورہ آباد کروں گر ویرانے

 

طوفانِ مجسم بن کے وہی اب آئے نظر منزل کے قریں

محسوس ہوئے تھے قبلِ سفر جو خوف کہ دل کو انجانے

 

انکار نہیں کچھ پینے سے جتنی بھی ملی ہم پی لیں گے

توحید کی مے ہو خالص اور عرفانِ نظرؔ کے پیمانے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ