ہر جگہ ہر نظر دیکھ سکتی نہیں ، تو حیات آفریں تو حیات آفریں

ہر جگہ ہر نظر دیکھ سکتی نہیں ، تو حیات آفریں تو حیات آفریں

میرے لب پر فقط کلمۂ آفریں ، تو حیات آفریں تو حیات آفریں

 

تو ہی مسجود ہے تو ہی مقصود ہے میں ہوں بندہ ترا تو ہی معبود ہے

تیری وحدانیت پر ہے سب کو یقیں ، تو حیات آفریں تو حیات آفریں

 

میری عاجز نظر میری قاصر زباں تیری عظمت کا کیسے کرے گی بیاں

تو نے انساں کو بخشا ہے نورِ مبیں ، تو حیات آفریں تو حیات آفریں

 

شکر ہر حال میں صبر ہر حال پر ہے نظر تیری دنیا کے احوال پر

حکم تیرا ہے مجھکو نہ ہو تو حزیں ، تو حیات آفریں تو حیات آفریں

 

تو ہی ذیشان ہے تو ہی ہے محترم خوف عصیاں سے ہے سب کی کیوں چشم نم

تیرے در پر جھکے انس و جاں کی جبیں ، تو حیات آفریں تو حیات آفریں

 

تو نے بخشا مجھے دولتِ علم و فن ہیں عطا کر دہ تیرے ہی یہ جان و تن

ہے رگِ جاں میں خوشدلؔ کے تو بالیقیں ، تو حیات آفریں تو حیات آفریں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بندہ تیرا دراصل گناہ گار بہت ہے
تیرا ہی ہرطرف یہ تماشا ہے اے کریم
حمد و ثنا سے بھی کہیں اعلیٰ ہے تیری ذات
دردِ دل کر مجھے عطا یا رب
شعور و آگہی، فکر و نظر دے
خدا اعلیٰ و ارفع، برگزیدہ
خدا مجھ کو شعورِ زندگی دے
میں بے نام و نشاں سا اور تو عظمت نشاں مولا
خدا ہی بے گماں خالق ہے سب کا
خدا آفاق کی روحِ رواں ہے

اشتہارات