ہر درد کی دوا ہے صلَ علیٰ محمد

ہر درد کی دوا ہے صلَ علیٰ محمد

تعویذ ہر بلا ہے صلَ علیٰ محمد

 

محبوبِ کبریا ہے صلَ علیٰ محمد

کیا نقشِ خوشنما ہے صلَ علیٰ محمد

 

قربِ خدا ہو حاصل جنت میں ہو وہ داخل

جس نے لکھا پڑھا ہے صلَ علیٰ محمد

 

جنت مقام ہوگا دوزخ حرام ہوگا

گر دل پہ لکھ لیا ہے صلَ علیٰ محمد

 

اس کی نجات ہوگی رحمت بھی ساتھ ہوگی

جو پڑھ کے مر گیا ہے صلَ علیٰ محمد

 

جو دردِ لا دوا ہو یہ گھول کر پلا دو

کیا نسخہ شفا ہے صلَ علیٰ محمد

 

کاندھا بدلنے والو ہمراہ چلنے والو

پڑھتے چلو روا ہے صلَ علیٰ محمد

 

جانے بھی دے ارم کو رضوان نہ روک ہم کو

سینے پہ لکھ لیا ہے صلَ علیٰ محمد

 

منزل کا ہے بھروسہ اکبر بغل میں توشہ

کیا خوب لے چلا ہے صلَ علیٰ محمد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مدینہ دیکھتے ہیں اورکہاں کھڑے ہوئے ہیں
آنکھ محرومِ نظارہ ہو ، ضروری کیا ہے
چشم ما شد وقف بہر دیدن روی کسی
محمدؐ مظہر شان خدا ہیں
دیارِ خوشبو کے ذرے ذرے کا کر رہی ہے طواف خوشبو
میں نعت لکھ دوں ،کریم آقا ، ردیف کر کے
شمس الضحیٰ سا چہرہ قرآن کہہ رہا ہے
اسوۂ کاملہ مرحبا مرحبا
ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
ہیں آپ سرورِ کونین یارسول اللہؐ