اردوئے معلیٰ

Search

ہر زمانے پر مَسلّم ہے مرے آقا کا راج

اُن کے سر ختمِ نبوت کا سجایا حق نے تاج

 

روزِ محشر وہ تأسف کے سوا کیا پائے گا

مانتا دل سے نہیں جو اُن کی عزّو شان آج

 

ایک بار اتنا کہا تھا آپ کا ہوں میں حضور

رکھ رہے ہیں آپ میرے ان کہے لفظوں کی لاج

 

وحشتوں کی تیرگی میں خانۂ انساں تھا جب

بام و در اُس کے منوّر کرنے آیا اِک سراج

 

گر رضا مطلوب ہے رب دو عالم کی تجھے

بار گاہِ مصطفیٰ میں دے حضوری جا کے حاج

 

اس لیے تجھ سے ہے برگشتہ مری طبعِ سلیم

سُن کے عظمت شاہ کی تیرا بگڑتا ہے مزاج

 

مشورہ دیتا ہوں ازہرؔ میں ہر اِک بیمار کو

جائے طیبہ گر کسی کو ہے شفا کی احتیاج

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ