اردوئے معلیٰ

ہر سانس ہے کراہ مگر تم کو اس سے کیا

ہر سانس ہے کراہ مگر تم کو اس سے کیا

ہو زندگی تباہ مگر تم کو اس سے کیا

 

تم ہو سہیلیوں میں مگن اور میرا حال

تنہائی بے پناہ مگر تم کو اس سے کیا

 

تم تو ہر ایک بات پہ دل کھول کر ہنسو

بھرتا ہے کوئی آہ مگر تم کو اس سے کیا

 

منزل ملی نہ ساتھ تمہارا ہوا نصیب

کھوئی ہے میں نے راہ مگر تم کو اس سے کیا

 

ہر سمت ہیں اداس منظر کھلے ہوئے

ویران ہے نگاہ مگر تم کو اس سے کیا

 

سیلاب میں سروں کی فصیلیں بھی بہہ گئیں

بے جرم بے گناہ مگر تم کو اس سے کیا

 

اب زندگی کی مانگتے ہیں بھیک در بہ در

شاہانِ کج کلاہ مگر تم کو اس سے کیا

 

گر تجزیہ کرو تو عیاں ہو نظر پہ نقش

ظاہر سفید و سیاہ مگر تم کو اس سے کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ