ہر سو ہے جس کی جلوہ نمائی وہ آپ ہیں

 

ہر سو ہے جس کی جلوہ نمائی وہ آپ ہیں

جس کے لیے ہے ساری خدائی وہ آپ ہیں

 

روشن چمکتے چاند ستاروں کا کیا کہیں

خلدِ بریں بھی جس نے سجائی وہ آپ ہیں

 

صبحِ ازل سے شامِ ابد تک مرے حضور!

جاری ہے جس کی مدح سرائی وہ آپ ہیں

 

بہرِ اماں ہوں نقشِ کفِ پا کے سائے میں

لو دل کی میں نے جس سے لگائی وہ آپ ہیں

 

محفل میں آپ آئیں گے ایمان ہے مرا

پلکیں ہیں جس کی رہ میں بچھائی وہ آپ ہیں

 

ادرکنی یارسول پکارا کرم ہوا

بگڑی ہماری جس نے بنائی وہ آپ ہیں

 

جن کی رضائے پاک سے مشروط ہے اماں

ایسی ہے جن کی فرماں روائی وہ آپ ہیں

 

بے نام سا وجود تھا منظرؔ کرم ہوا

اس کو ملی ہے جس کی گدائی وہ آپ ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ