ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے

ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے

جوکچھ بھی آج ہوں میں وہ احسانِ نعت ہے

 

سب لوگ مجھ کو کہتے ہیں جو ان کا نعت گو

اس کو بھی میں کہوں گا کہ فیضانِ نعت ہے

 

کچھ بھی زباں کہے نہ سواان کی مدح کے

ہر پل ہر اک گھڑی مجھے ارمانِ نعت ہے

 

ہر عہد کی زباں پہ محمد کی ہے ثنا

ہر عہد میں ہی، دیکھئے! کیا شانِ نعت ہے!

 

قابل کہاں تھا، آپ نے احسان کر دیا

محشر میں پیش کرنے کو دیوانِ نعت ہے

 

میں خود کو کس طرح سے تہی دست مان لوں

دیکھو! یہ میرے پاس بھی سامانِ نعت ہے

 

یوں تو ہر ایک نے ہے کہی نعتِ مصطفیٰ

زاہدؔ نےجوکہا ہے وہ سلطانِ نعت ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ضیائے سدرہ و طوبیٰ و کل جہاں روشن
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
زمیں سے تا بہ فلک ایسا رہنما نہ ملا
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
ہوئے جو مستنیر اس نقشِ پا سے
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
بس قتیلِ لذتِ گفتار ہیں
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات