ہر شعر میں عیاں ہے محبت حضور کی

ہر شعر میں عیاں ہے محبت حضور کی

جب سے ہوئی ہے چشمِ عنایت حضور کی

 

ہر دور پر محیط رسالت حضور کی

ہر دور کا نصاب ہے سیرت حضور کی

 

نبیوں کے پیشوا کی غلامی نصیب ہے

نازاں ہے اپنے بخت پہ امت حضور کی

 

دستِ طلب کو دستِ کونین بخش دے

دنیا میں بے مثال سخاوت حضور کی

 

کتنے ہی لوگ یوں تو ہوئے ہیں وطن سے دور

عالم میں انتخاب ہے ہجرت حضور کی

 

ہر شب یہی دعا مرے لب پر سجی رہے

ہو خواب میں نصیب زیارت حضور کی

 

دن رات آ رہی ہے فلک سے یہی صدا

احسان ہے زمین پہ بعثت حضور کی

 

ہو عرصۂ حیات کہ میدانِ حشر ہو

انسان کو رہے گی ضرورت حضور کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ