اردوئے معلیٰ

ہر شہر کو نہ قالبِ جنت میں ڈھال دے

ہر شہر کو نہ قالبِ جنت میں ڈھال دے

آدم کو اس جہاں سے بھی یارب نکال دے

میں جا رہا ہوں رقص کُناں بزمِ سوئے دوست

کونین کو کوئی مرے قدموں میں ڈال دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ