ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی

ہر طرف تیرگی تھی نہ تھی روشنی

آپ آئے تو سب کو ملی روشنی

 

بزمِ عالم سے رخصت ہوئی ظلمتیں

جب حرا سے ہویدا ہوئی روشنی

 

چاند سورج کا انساں پرستار تھا

آپ سے قبل اندھیرا تھی روشنی

 

سوئے عرشِ علٰی مصطفیٰ کا سفر

روشنی کا طلبگار تھی روشنی

 

ہے وہ خورشیدِ اطلاق خیر البشر

جس سے پاتا ہے ہر آدمی روشنی

 

خلقتِ اولیں خاتم المرسلیں

آپ پہلی کرن آخری روشنی

 

آپ کے نقشِ پا سے ضیا بار ہیں

دھوپ، سورج، قمر، چاندنی روشنی

 

ایک امی لقب کا یہ اعجاز ہے

آدمی کو ملی علم کی روشنی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمیں کا گوشۂ حیرت ہے، یارسول اللہ
ذی کرم ذی عطا آج کی رات ہے
دل کی دہلیز پر قدم رکھا
رسول پاک کے جتنے بھی ماہ پارے ہیں
سخن کے شہرِ حبس میں ہَوا کا باب کھُل گیا
دل اماں پائے گا کیونکر باغِ جنت چھوڑ کر
سردارِ رسل خواجۂ گیہاں کی طرح
نعت کے پھول جو ہونٹوں پہ سجا دیتے ہیں
ثنا خوانِ محمدؐ پتّہ پتّہ ڈالی ڈالی ہے
خدا کے فضل کے ہر دم حصار میں رہنا

اشتہارات